
عید کی نماز پر پابندی، یوگا تقریب کے لیے ایک ہفتہ بندش پر سوالات
کولکاتا کی ریڈ روڈ پر دوہرا معیار؟
کولکاتا، 18 جون 2026
مغربی بنگال کے دارالحکومت کولکاتا میں ریڈ روڈ کی بندش سے متعلق ایک انتظامی فیصلے نے برابری، انصاف اور یکساں معیار کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
گزشتہ تقریباً پچھتر برسوں سے کولکاتا میں عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کے موقع پر سال میں صرف دو مرتبہ چند گھنٹوں کے لیے ریڈ روڈ کو بند کرکے اجتماعی نمازِ عید کا اہتمام کیا جاتا رہا ہے۔ نماز کے اختتام کے فوراً بعد سڑک عام ٹریفک کے لیے کھول دی جاتی تھی اور شہری زندگی معمول کے مطابق جاری رہتی تھی۔
رواں سال عیدالاضحیٰ سے قبل ریاستی انتظامیہ نے ریڈ روڈ پر نماز کی اجازت دینے سے انکار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ شہر کی ایک اہم شاہراہ ہے اور اسے بند کرنے سے ٹریفک کا نظام متاثر ہوگا اور عام شہریوں کو دشواری پیش آئے گی۔ اس فیصلے کے بعد مسلمانوں نے انتظامیہ کے فیصلے کو قبول کرتے ہوئے بریگیڈ پریڈ گراؤنڈ میں عیدالاضحیٰ کی نماز ادا کی۔
تاہم اس فیصلے کے چند ہی روز بعد حکومت کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ بین الاقوامی یومِ یوگا کی مرکزی تقریب اور اس کی تیاریوں کے پیشِ نظر ریڈ روڈ کو 14 جون 2026 کی رات 10 بجے سے 21 جون 2026 تک، یعنی تقریب کے اختتام تک، مکمل طور پر بند رکھا جائے گا۔ اس دوران نہ صرف عام ٹریفک بلکہ پیدل چلنے والوں کی آمد و رفت پر بھی پابندی عائد رہی اور ٹریفک کو متبادل راستوں پر منتقل کیا گیا۔
اس صورتحال کے بعد مختلف سماجی حلقوں، شہری تنظیموں اور سوشل میڈیا پر یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر سال میں صرف دو مرتبہ چند گھنٹوں کے لیے عید کی نماز کی خاطر سڑک بند کرنا عوامی مفاد کے خلاف سمجھا گیا تھا تو پھر ایک سرکاری تقریب کے لیے مسلسل ایک ہفتے تک اسی شاہراہ کی بندش کو کس بنیاد پر مناسب قرار دیا گیا؟
ناقدین کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ کسی ایک تقریب یا مذہبی اجتماع کا نہیں بلکہ انتظامی فیصلوں میں یکسانیت کا ہے۔ ان کے مطابق اگر ٹریفک اور عوامی سہولت کو بنیاد بنایا گیا تھا تو یہی اصول ہر موقع پر یکساں طور پر لاگو ہونا چاہیے۔
کئی مسلم شہریوں نے اس معاملے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے فیصلے عوام کے ذہنوں میں دوہرے معیار کا تاثر پیدا کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آئین، قانون اور انصاف کی اصل روح یہی ہے کہ تمام شہریوں اور تمام طبقات کے ساتھ یکساں برتاؤ کیا جائے۔
الف نیوز تبصرہ
جمہوری معاشروں میں انتظامی فیصلوں کی ساکھ صرف قانون کی عمل داری سے نہیں بلکہ اس کے یکساں اطلاق سے قائم ہوتی ہے۔ جب مختلف مواقع پر مختلف پیمانے اختیار کیے جاتے ہیں تو سوالات جنم لینا فطری امر ہے۔ ان سوالات کا جواب خاموشی نہیں بلکہ شفافیت، وضاحت اور مساوی طرزِ عمل ہے۔ انصاف صرف ہونا ہی نہیں چاہیے بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔
Double Standards on Kolkata’s Red Road?
Questions Raised Over Eid Prayer Ban and Week-Long Road Closure for Yoga Event
Kolkata, June 18, 2026
An administrative decision regarding the use of Kolkata’s Red Road has sparked a debate on equality, fairness, and consistency in public policy.
For nearly seventy-five years, Red Road had traditionally been used twice a year for Eid-ul-Fitr and Eid-ul-Adha congregational prayers. The road would remain closed only for a few hours and would be reopened immediately after the prayers, allowing normal traffic to resume.
Ahead of Eid-ul-Adha this year, the state administration declined permission for prayers on Red Road, arguing that it is a major arterial route and that its closure would disrupt traffic and inconvenience the public. Following the decision, members of the Muslim community accepted the arrangement and offered Eid prayers at Brigade Parade Ground instead.
However, only days later, the government announced that Red Road would remain completely closed from 10 p.m. on June 14, 2026, until the conclusion of the International Yoga Day celebrations on June 21, 2026. During this period, both vehicular and pedestrian movement on the stretch was restricted, while traffic was diverted to alternative routes.
The development has prompted questions from several sections of society. Critics ask whether the standards applied by the administration were consistent. If closing the road for a few hours twice a year for Eid prayers was considered an inconvenience to the public, they argue, how can a week-long closure for another event be justified under the same reasoning?
Observers maintain that the issue is not about one particular event or community but about the uniform application of administrative principles. If public convenience and traffic management were the deciding factors, they say, those principles should be applied equally in all cases.
Many citizens have expressed concern that differing standards for similar situations can create a perception of unequal treatment. They argue that constitutional values, rule of law, and genuine secularism require equal consideration for all communities.
Alif News Note
The credibility of democratic governance depends not only on the enforcement of laws but also on their consistent application. When different standards appear to be used in comparable situations, questions naturally arise. Such concerns can only be addressed through transparency, clarity, and equal treatment. Justice must not only be done; it must also be seen to be done.
اداریہ
ہجری تقویم کی تاریخ اور اہمیت
الف نیوز شمارہ نمبر: 242| تاریخ: 30 ذی الحجہ 1447ھ| 17 جون 2026 ء | چہارشنبہ اداریہ سیّد اکبر زاہد نئے ہجری سال کا آغاز: تاریخ، شعور اور ہماری ذمہ داری نئے ہجری سال کا آغاز محض کیلنڈر کی تبدیلی کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ایسی تاریخی یاد دہانی ہے جو انسانیت کو عزم، قربانی، استقلال اور تہذیبی شناخت کا سبق دیتی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ آج کی نئی نسل، خواہ…
Keep readingمنی پور میں ایک بار پھر حالات کشیدہ کو کی اکثریتی علاقہ میں میتی نوجوان کا اغوا کے بعد قتل
امپھال (ایجنسی) منی پور میں ایک بار پھر حالات کشیدہ ہوتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ طویل عرصہ سے بدامنی کا شکار منی پور میں اغوا کیے گئے میتیئی سماج کے ایک نوجوان کا گولی مار کر قتل کر دیا گیا ہے۔ ….
تازہ خبریں
اسرائیل اور حزب اللہ جنگ بندی کی تجدید پر متفق، مگر سرحدی فضائیں اب بھی بارود آلود
مشرقِ وسطیٰ میں کئی ماہ سے جاری کشیدگی کے درمیان ایک اہم پیش رفت بیروت/تل ابیب، 19 جون 2026ء:مشرقِ وسطیٰ میں…
نمبروں کا حساب کتاب: ایک 5 سالہ SIP گروتھ پروجیکشن
مضمون نگار: سیّد احمد شمیل, بنگلور اسمارٹ منی، جلدی شروعات: چوتھی قسط (کل 6 قسطیں) اسمارٹ منی، جلدی شروعات: ای ٹی…
ایران سے معاہدہ یا نئی عالمی حقیقت کا اعتراف؟
(اس مضمون میں بیان کردہ دعوے اور تجزیے مصنف کے نقطۂ نظر کی ترجمانی کرتے ہیں، ضروری نہیں کہ وہ ثابت…
امریکہ–ایران 14 نکاتی جنگ بندی معاہدہ
کیا مشرقِ وسطیٰ ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے؟ الف نیوز عالمی ڈیسک واشنگٹن / تہران: امریکہ اور ایران…
ترپاتور میں مسجد انتظامیہ کے خلاف پروپگنڈہ: مسجد کمیٹی کی پولیس میں شکایت درج
مسجد انتظامیہ کے خلاف مبینہ پروپیگنڈہ، کمیٹی اراکین کی ایس پی دفتر میں شکایت وانمباڑی (نور الامین)، 18 جون:ضلع تروپتور کے…
آر ایس ایس اور ایک کثیر المذہبی ملک بھارت : ریاست کے اندر ریاست؟ ایک بیان، کئی سوالات
الف نیوز شمارہ نمبر: 244; تاریخ: 2 محرم 1448ھ | 19 جون 2026ء|جمعہ اداریہ سیّد اکبر زاہد آر ایس ایس کے…
ادھے ٹھاکرے کی طاقت کا مظاہرہ ناکام ہوا
شیو سینا (یو بی ٹی) میں بغاوت، ادھو ٹھاکرے کی طاقت کا مظاہرہ ناکام نئی دہلی، 18 جون 2026: مہاراشٹر کی…
مہاڑ سے آج تک: امبیڈکر کی جدوجہد صرف دلتوں کی نہیں، ہر حاشیہ نشین انسان کی آواز
الف نیوز | کتابی جائزہ: اکبر زاہد منوسمرتی کی نئی قرأت: امبیڈکر، نطشے اور حاشیے کے انسان کی بازیافت برصغیر کی…






