25°
Sunny, June 19, 2026 in Kathmandu

خبریں

عید کی نماز پر پابندی، یوگا تقریب کے لیے ایک ہفتہ بندش پر سوالات

کولکاتا کی ریڈ روڈ پر دوہرا معیار؟

کولکاتا، 18 جون 2026

مغربی بنگال کے دارالحکومت کولکاتا میں ریڈ روڈ کی بندش سے متعلق ایک انتظامی فیصلے نے برابری، انصاف اور یکساں معیار کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

گزشتہ تقریباً پچھتر برسوں سے کولکاتا میں عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کے موقع پر سال میں صرف دو مرتبہ چند گھنٹوں کے لیے ریڈ روڈ کو بند کرکے اجتماعی نمازِ عید کا اہتمام کیا جاتا رہا ہے۔ نماز کے اختتام کے فوراً بعد سڑک عام ٹریفک کے لیے کھول دی جاتی تھی اور شہری زندگی معمول کے مطابق جاری رہتی تھی۔

رواں سال عیدالاضحیٰ سے قبل ریاستی انتظامیہ نے ریڈ روڈ پر نماز کی اجازت دینے سے انکار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ شہر کی ایک اہم شاہراہ ہے اور اسے بند کرنے سے ٹریفک کا نظام متاثر ہوگا اور عام شہریوں کو دشواری پیش آئے گی۔ اس فیصلے کے بعد مسلمانوں نے انتظامیہ کے فیصلے کو قبول کرتے ہوئے بریگیڈ پریڈ گراؤنڈ میں عیدالاضحیٰ کی نماز ادا کی۔

تاہم اس فیصلے کے چند ہی روز بعد حکومت کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ بین الاقوامی یومِ یوگا کی مرکزی تقریب اور اس کی تیاریوں کے پیشِ نظر ریڈ روڈ کو 14 جون 2026 کی رات 10 بجے سے 21 جون 2026 تک، یعنی تقریب کے اختتام تک، مکمل طور پر بند رکھا جائے گا۔ اس دوران نہ صرف عام ٹریفک بلکہ پیدل چلنے والوں کی آمد و رفت پر بھی پابندی عائد رہی اور ٹریفک کو متبادل راستوں پر منتقل کیا گیا۔

اس صورتحال کے بعد مختلف سماجی حلقوں، شہری تنظیموں اور سوشل میڈیا پر یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر سال میں صرف دو مرتبہ چند گھنٹوں کے لیے عید کی نماز کی خاطر سڑک بند کرنا عوامی مفاد کے خلاف سمجھا گیا تھا تو پھر ایک سرکاری تقریب کے لیے مسلسل ایک ہفتے تک اسی شاہراہ کی بندش کو کس بنیاد پر مناسب قرار دیا گیا؟

ناقدین کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ کسی ایک تقریب یا مذہبی اجتماع کا نہیں بلکہ انتظامی فیصلوں میں یکسانیت کا ہے۔ ان کے مطابق اگر ٹریفک اور عوامی سہولت کو بنیاد بنایا گیا تھا تو یہی اصول ہر موقع پر یکساں طور پر لاگو ہونا چاہیے۔

کئی مسلم شہریوں نے اس معاملے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے فیصلے عوام کے ذہنوں میں دوہرے معیار کا تاثر پیدا کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آئین، قانون اور انصاف کی اصل روح یہی ہے کہ تمام شہریوں اور تمام طبقات کے ساتھ یکساں برتاؤ کیا جائے۔

الف نیوز تبصرہ

جمہوری معاشروں میں انتظامی فیصلوں کی ساکھ صرف قانون کی عمل داری سے نہیں بلکہ اس کے یکساں اطلاق سے قائم ہوتی ہے۔ جب مختلف مواقع پر مختلف پیمانے اختیار کیے جاتے ہیں تو سوالات جنم لینا فطری امر ہے۔ ان سوالات کا جواب خاموشی نہیں بلکہ شفافیت، وضاحت اور مساوی طرزِ عمل ہے۔ انصاف صرف ہونا ہی نہیں چاہیے بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔

Double Standards on Kolkata’s Red Road?

Questions Raised Over Eid Prayer Ban and Week-Long Road Closure for Yoga Event

Kolkata, June 18, 2026

An administrative decision regarding the use of Kolkata’s Red Road has sparked a debate on equality, fairness, and consistency in public policy.

For nearly seventy-five years, Red Road had traditionally been used twice a year for Eid-ul-Fitr and Eid-ul-Adha congregational prayers. The road would remain closed only for a few hours and would be reopened immediately after the prayers, allowing normal traffic to resume.

Ahead of Eid-ul-Adha this year, the state administration declined permission for prayers on Red Road, arguing that it is a major arterial route and that its closure would disrupt traffic and inconvenience the public. Following the decision, members of the Muslim community accepted the arrangement and offered Eid prayers at Brigade Parade Ground instead.

However, only days later, the government announced that Red Road would remain completely closed from 10 p.m. on June 14, 2026, until the conclusion of the International Yoga Day celebrations on June 21, 2026. During this period, both vehicular and pedestrian movement on the stretch was restricted, while traffic was diverted to alternative routes.

The development has prompted questions from several sections of society. Critics ask whether the standards applied by the administration were consistent. If closing the road for a few hours twice a year for Eid prayers was considered an inconvenience to the public, they argue, how can a week-long closure for another event be justified under the same reasoning?

Observers maintain that the issue is not about one particular event or community but about the uniform application of administrative principles. If public convenience and traffic management were the deciding factors, they say, those principles should be applied equally in all cases.

Many citizens have expressed concern that differing standards for similar situations can create a perception of unequal treatment. They argue that constitutional values, rule of law, and genuine secularism require equal consideration for all communities.

Alif News Note

The credibility of democratic governance depends not only on the enforcement of laws but also on their consistent application. When different standards appear to be used in comparable situations, questions naturally arise. Such concerns can only be addressed through transparency, clarity, and equal treatment. Justice must not only be done; it must also be seen to be done.

اداریہ

ہجری تقویم کی تاریخ اور اہمیت

الف نیوز شمارہ نمبر: 242| تاریخ: 30 ذی الحجہ 1447ھ| 17 جون 2026 ء | چہارشنبہ اداریہ سیّد اکبر زاہد نئے ہجری سال کا آغاز: تاریخ، شعور اور ہماری ذمہ داری نئے ہجری سال کا آغاز محض کیلنڈر کی تبدیلی کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ایسی تاریخی یاد دہانی ہے جو انسانیت کو عزم، قربانی، استقلال اور تہذیبی شناخت کا سبق دیتی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ آج کی نئی نسل، خواہ…

Keep reading

منی پور میں ایک بار پھر حالات کشیدہ کو کی اکثریتی علاقہ میں میتی نوجوان کا اغوا کے بعد قتل


امپھال (ایجنسی) منی پور میں ایک بار پھر حالات کشیدہ ہوتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ طویل عرصہ سے بدامنی کا شکار منی پور میں اغوا کیے گئے میتیئی سماج کے ایک نوجوان کا گولی مار کر قتل کر دیا گیا ہے۔ ….

تازہ خبریں

تازہ خبریں

#End Hate Politics #INDIA FOR ALL America Attack on Iran BJP Breaking News citizens crime Democracy DMK Donald Trump Editorial Election Election 2026 Election Commision٫ Elections 2026 Feature Article Gaza hate humanity Intro Iran Iran America Peace Talk IRAN ISRAEL Islam Israel jewish Law & literature Minorities human rights Modi NATIONAL NEWS News OIL Peace Politics Protest Quran & Hadith Rahul Gandhi Tamil Nadu trade War West Bengal World News World War 3

جنگِ خلیج کے دو پہلو!

یہ جنگ ہماری نہیں مگر سب سے زیادہ نقصان ہمارا ہو رہا ہے مشتاق احمد وانمی ہم چاہے اپنے پروفائل میں خامنہ ای کی تصویر لگائیں، اسرائیل چاہے ترقی کرتا ہوا کوئی ڈرون یا میزائل دکھا کر جشن منائے، مگر اس جنگ میں سب سے زیادہ نقصان خلیج میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ آرام…

Keep reading

بنگلور میں اردو اور کنڑا کے ادبی رشتوں پر ایک یادگار شام

سیّد اکبر زاہد باغات کے شہر بنگلور میں، جہاں لاکھوں افراد اردو بولتے اور سمجھتے ہیں، اور جہاں مختلف زبانیں اور ثقافتیں ایک دوسرے سے ہم آغوش ہو کر ایک منفرد تہذیبی منظرنامہ تشکیل دیتی ہیں، ایک اہم ادبی تقریب منعقد ہونے جا رہی ہے۔ ہندوستانی اردو منچ (HUM) کے زیرِ اہتمام 6 جون 2026…

Keep reading
جون 2026
پیر منگل بدھ جمعرات جمعہ ہفتہ اتوار
1234567
891011121314
15161718192021
22232425262728
2930  

Support Us

ICICI Bank
Vaniyambadi Branch
AKBAR ZAHID
Account No
619101000662
IFSC Code: ICI0006191

Alif News الف نیوز : مدیرِ اعلٰی: سیّد اکبر زاہد

جہاں خبر انسانیت کی آواز اور ضمیر کی پکار بن جاتی ہے

Skip to content ↓